پاکستانی سیاست میں انہوںنے واقعات کا سلسلہ جاری ہے اسحاق ڈار واپس آ گئے ہیں۔ سینٹر منتخب ہونے کے پانچ سال بعد اپنی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے جہاں سے وہ پانچ سال پہلے چلے گئے تھے۔ نام نہاد مالیاتی جادوگر ملک کی معیشت میں خراب ہونے والی ہر چیز کو ٹھیک کرنے کا وعدہ کررہے ہیں۔اسحاق ڈار کی حکمت عملی جسے 'ڈارونومکس' کے طور پر جانا جاتا ہے اس سے ڈالر کو نیچے لانا اور بڑھتی ہوئی افراط زر کو کنٹرول میں لانا سمجھا جاتا ہے۔ ان معاشی حالات میں کیا کارگر ثابت ہوگا اس بارے میں اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔ یقینی طور پر ملک کے اگلے وزیر خزانہ کے طور پر ڈار کی واپسی اور مفتاح اسماعیل کا غیر رسمی طور پر استعفیٰ کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کراچی کا ایک بزنس مین جس نے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ہے بہت کچھ مشکل کام کروانے کے لیے اطاعت گزار سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک انتہائی مشکل معاہدے پر کامیابی سے بات چیت کی ۔ لیکن ایک بار قسط موصول ہونے کے بعد وہ غیر اہم ہوگئے . سابق وزیر خزانہ اب حکومت کی جانب سے معیشت کو مستحکم کرنے اور مہنگائی کو روکنے میں ناکامی کے لیے ایک آسان قربانی کا بکرا ثابت ہوں گے۔ ڈار سابق وزیر خزانہ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے سخت ترین ناقدین میں سے ایک رہے ہیں جنہوں نے ایک ممکنہ ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے درکار بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا۔ لندن میں بیٹھ کر ڈار نے اپنے پیشرو کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کی واپسی کے لیے گراؤنڈ پہلے ہی تیار تھا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ شریف خاندان کے قریبی ساتھی اور پارٹی کے اہم رکن ہونے کے ناطے ڈار کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی آشیرباد حاصل ہے۔ حکومت بننے کے چھ ماہ کے اندر اب اس کا دوسرا وزیر خزانہ ہوگا۔ نئے وزیر خزانہ کو بظاہر اپنی پارٹی کا کھویا ہوا 'سیاسی سرمایہ' دوبارہ حاصل کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ لیکن کیا ڈار اپنے خود ساختہ 'جادوگر' کے باوجود زوال پذیر حالت میں معیشت کا رخ موڑ سکتا ہے؟ نواز شریف کی دوسری اور تیسری حکومت میں بطور وزیر خزانہ ان کا سابقہ ​​ریکارڈ بے داغ نہیں رہا۔ وہ ن لیگ کی پچھلی حکومت میں غیر اعلانیہ نائب وزیر اعظم تھے۔ معیشت سے نمٹنے کی اپنی اہم ذمہ داری کے علاوہ، انہوں نے معیشت اور سیاست سے لے کر قانونی معاملات تک کے مسائل سے نمٹنے والی درجنوں سرکاری کمیٹیوں کی سربراہی بھی کی۔ اپنی پچھلی مدت کے دوران عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لے کر مارکیٹ میں ڈالر ڈال کر زر مبادلہ کی شرح کو کنٹرول کرنے کی ان کی متنازعہ کوششوں نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مسئلے کو مزید بگاڑ دیا جس کی وجہ سے 2019 میں حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئی۔ ہو سکتا ہے کہ ڈار کے لیے یہ ممکن نہ ہو کہ آج روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے وہی طریقہ استعمال کریں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر پہلے سے ہی نازک صورتحال میں ہیں۔ ان کے لیے ایک زیادہ سنگین چیلنج یہ ہو گا کہ مہنگائی کو کم کیا جائے جو اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل سے چل رہی ہے۔ ایک کمزور حکومت جس میں محدود سیاسی کنٹرول اور کم مالیاتی گنجائش موجود ہے شاید ہی کوئی بڑی اصلاحات کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ سخت شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہونے سے آنے والے وزیر خزانہ کے لیے اپنے وعدوں کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ڈار اسٹیٹ بینک سمیت ریگولیٹری اداروں کو کنٹرول کرنے کے اپنے رجحان کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ لیکن اسٹیٹ بینک (آئی ایم ایف کی شرائط کا ایک حصہ) کی خودمختاری کے تحفظ کے نئے اصول کے ساتھ، اس کے لیے ماضی کی طرح شرح مبادلہ میں ہیرا پھیری کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ موجودہ معاشی اور سیاسی حالات میں واپس آنے والے 'معاشی جادوگر' کے لیے چیلنجز انتہائی گھمبیر ہیں۔ اگلے انتخابات سے پہلے - چند مہینوں کے اندر ایک بیمار معیشت کو تبدیل کرنے کے ان کے عہدے کا سخت امتحان ثابت گا۔ ڈار کی واپسی پر وزارت خزانہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں ۔ مفتاح اسماعیل کے برعکس، انہیں نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف بلکہ دیگر سینئر پارٹی رہنماؤں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ اس سے حکومت کے اندر طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ کابینہ کے سب سے طاقتور عہدے پر ان کی واپسی یقینی طور پر اہم قومی معاملات پر حکومت کی پالیسی سازی کے عمل پر سابق وزیر اعظم کے کنٹرول کو مضبوط کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی پچھلی حکومت کی طرح اس بار بھی وہ نواز شریف سے ہدایت لیتے ہوئے نائب وزیراعظم کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم شہباز شریف کو انتہائی بے چین کر سکتا ہے، جس سے یہ سنگین سوالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکومت کی پالیسیوں کی رہنمائی کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ یہ تو ظاہر ہے تمام بڑے فیصلے اسلام آباد کی بجائے لندن میں ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ حیران کن نہیں تھا کہ اسحاق ڈار کی تقرری کا فیصلہ لندن میں شریف برادران کی ملاقات کے دوران میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں، جس میں کابینہ کے بعض وزراء اور شریف خاندان کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی، پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تازہ ترین آڈیو لیکس سے پتہ چلتا ہے کہ معمولی فیصلے بھی، مثال کے طور پر، پی ٹی آئی کے 'استعفی' ایم این اے کو ڈی سیٹ کرنے کے لیے، نواز شریف کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہباز شریف کا چند دنوں میں لندن کے دو دورے کرنا اور اپنے بڑے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد سے مشورہ کرنا پریشان کن ہے، اور ان حالات میں جب ملک کو بدترین سیلاب کا سامنا تھا وزیر اعظم ملک سے باہر تھے حالانکہ لاکھوں افراد گھروں میں اس کے نتائج بھگت رہے تھے۔ جب حکومت اپنے وسائل کو مکمل طور پر متحرک کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی تو ہم عالمی برادری سے اس آفت سے نمٹنے کے لیے تعاون کی ہماری درخواست پر ردعمل کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ اس سے حکمران جماعت اور حکومت کے لیے اپنا 'کھویا ہوا سیاسی سرمایہ' دوبارہ حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈار کی بگڑتی ہوئی معیشت کو بچانے کے لیے کوئی معجزہ کرنے کا امکان نہیں ہے اور کوئی نیا تجربہ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے لیکن مستقبل میں اس کے بھیانک نتائج قوم کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں ۔ موجودہ غیر یقینی سیاسی ماحول اور اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود اتحادی حکومت کو بحران کی سنگینی کا کوئی اندازہ نہیں لگتا۔ ملک کو درپیش سنگین چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک بڑی کابینہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت سے وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کے پاس کوئی قلمدان بھی نہیں ہے یا انہیں کوئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔ وہ ایک سنگین مالی بحران کے دوران خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہیں۔ ڈار کی واپسی سے گورننس کے اس بنیادی مسئلے میں کوئی بہتری نہیں آئے گی سرمایہ کاروں کو ایک ایسا شخص کیسے اعتماد دے سکتا ہے جس کا خود کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ان کی واپسی سے ہمارا نظام انصاف بھی مزید متنازعہ ہوگیا ہے اور تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔